اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق سعودی سیاستدان فؤاد ابراہیم نے کہا کہ لوگ قدم بقدم حقیقی اصلاحات، حقِّ تعینِ مقدرات، حکام کے انتخاب کا حق اور اپنی رائے سے ریاستی اداروں کی تشکیل کا حق حاصل کرنے کی جانب پیش قدمی کررہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ سعودی عرب کے موجودہ حالات مصر اور تیونس میں انقلاب سے قبل کے حالات سے مختلف ہیں اور عوام مرحلہ وار انداز سے ان انقلابات سے نمونۂ عمل حاصل کرنے کے مرحلے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ فؤاد ابراہيم نے کہا: برسراقتدار سعودی خاندان جان لے کہ اشرافیہ کی فرمانروائی کے دور کا خاتمہ ہوچکا ہے اور آج ان نظامات حکومت کا دور ہے جن میں لوگ اپنے مقدرات کا تعین کسی بادشاہ یا شہزادے کے سپرد نہیں کیا کرتے بلکہ اپنا مقدر اپنے ہاتھ سے رقم کیا کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا: سعودی عرب کے تمام طبقات سماجی اور سیاسی مطالبات پر متفق الرائے ہیں اور سعودی خاندان کو جان لینا چاہئے کہ تشدد، دباؤ، دھونس دھمکی اور قتل و غارت سے اس خاندان کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا اور عوام اپنے مطالبات سے کسی طرح بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔یاد رہے کہ سعودی عرب کے عوام نے کل بروز جمعہ 11 مارچ کو یوم الغضب کا اعلان کیا ہے اور جبکہ دوسری طرف سے سعودی حکمرانوں نے مظاہروں پر پابندی لگائی ہے اور وہابی مفتیوں نے اپنے سعودی آقاؤں کی ہاں میں ہاں ملا کر مظاہروں اور جلسے جلوسوں کو "وہابی شریعت" کے منافی قرار دیا ہے۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110
28 فروری 2011 - 20:30
News ID: 230509
ایک سعودی سیاستدان نے سعودی حکمرانوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ معترضین اور عوام کے خلاف کسی بھی حماقت اور خونی اقدامات سے پرہیز کریں اور یاد رکھیں کہ ان کی طرف سے دھونس دھمکی اور ظلم و جبر کی پالیسی عوام کو ان کے مطالبات سے روک نہیں سکے گی۔